یاسر بلوچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 24 فروری 2025 کو اغواء ہونے کا دعوٰی کیا گیا جبکہ حقیقت میں یہ بی ایل اے کی مجید برگیڈ کا رکن تھا۔
بی ایل اے کی جانب سے آپریشن درۂ بولان کیا گیا اور اس آپریشن کے بی ایل اے کی جانب سے دو فیز بتائے گئے پہلا فیز فروری 2024 مچ شہر میں اور دوسرا فیز جعفر ایکسپریس حملہ بتایا گیا۔ اسی آپریشن کے دوسرے فیز مارچ کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی صورت میں یاسر بلوچ ہلاک ہوا جس کو بی ایل اے نے خراج تحسین پیش کیا اور مسلح تصویر بھی جاری کی.