نعیم سٹکزئی کو بلوچ یکجہتی کمیٹی و دیگر بلوچ پسند جماعتوں کی جانب سے مسنگ پرسن بتایا گیا اور مبینہ طور پر 6 اگست 2024 کو اغواء ہونے کا دعوٰی کیا گیا تھا لیکن نعیم سٹکزئی مسلح گروپ بلوچ لبریشن آرمی کا سرگرم رکن تھا اور سیکیورٹی فورسز و دیگر جگہوں پر متعدد حملوں میں ملوث تھا اور جولائی 2025 میں بی ایل اے کی جانب سے امچ ریجن میں پاکستان سیکورٹی فورسز پر ریموٹ کنٹرول (آئی ای ڈی) اور شدید فائرنگ سے حملہ کیا گیا تھا اور سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں نعیم سٹکزئی ہلاک ہوا ۔ بلوچ لبریشن آرمی نے نعیم سٹکزئی کی جانب سے کیے دہشتگردانہ حملوں کی تصدیق بھی کی اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جاری مسلحہ لڑائی میں ہلاکت کی بھی تصدیق کی اور اس کی ہلاکت پر فخر کیا۔