19 فروری 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلات میں تعینات ایک سینئر سرکاری ملازم پر الزام ہے کہ اس نے مجموعی طور پر 9 کروڑ 23 لاکھ روپے سرکاری فنڈز میں سے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔ محکمہ خزانہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ رقم 2019 سے 2026 کے دوران مختلف سرکاری چیکوں میں مبینہ رد و بدل اور مالی اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے نکالی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعلقہ افسر نے تنخواہ اور ادائیگیوں کے ریکارڈ میں تبدیلی کر کے مالی بے ضابطگی کو چھپانے کی کوشش کی، جس سے صوبائی مالیاتی نگرانی کے نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔