عافیہ صدیقی ایک تعلیم یافتہ اور نسبتاً خوشحال پاکستانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور 1990 کی دہائی میں امریکہ گئیں، جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکی شہریت بھی حاصل کی۔ ان کی دو شادیاں ہوئیں جو ان کی اپنی پسند سے تھیں۔ وہ القاعدہ سے منسلک ہوگئیں اور دورانِ تفتیش خالد شیخ محمد نے بھی ان کا نام لیا۔ 2008 میں افغانستان میں افغان فورسز کے ہاتھ لگنے کے بعد انہیں امریکہ کے حوالے کیا گیا، جہاں ایک واقعے میں مبینہ طور پر انہوں نے امریکی اہلکاروں پر فائرنگ کی کوشش کی، جس پر انہیں سزا سنائی گئی۔
ان کی گرفتاری اور حوالگی کے بارے میں مختلف بیانیے موجود ہیں۔ نہ پاکستان نے انہیں گرفتار کرنے کا اعتراف کیا اور نہ ہی امریکہ نے کہا کہ پاکستان نے انہیں حوالے کیا۔ ان ان کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد اور ماموں کے بیانات موجود ہیں کہ وہ شناخت چھپا کر 2008ء پاکستان میں ہی رہیں اور پھر افغانستان چلی گئیں جہاں وہ افغان فورسز کے ہتھے چڑھ گئیں۔ کچھ دیگر شواہد بھی موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاک فوج پر یہ ملزم بلکل بے بنیاد ہے۔