28 مئی 1998 کو بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان پر اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھ گیا۔ دھماکے روکنے کے لیے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے دھمکی اور رشوت دونوں سے کام لیا۔ نواز شریف نے وہ دباؤ برداشت کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے 30 مئی کو دفاعی تیاریوں کے بعد 31 مئی 1998 کو دوسرا مرحلہ انجام دیتے ہوئے چاغی، بلوچستان میں مزید ایٹمی دھماکے کیے (پہلا مرحلہ 28 مئی کو ہوا تھا)۔ اس فیصلے کو پاکستان میں “جوابی صلاحیت” اور “قومی دفاع” کے تناظر میں تاریخی اقدام سمجھا گیا، جبکہ عالمی سطح پر پابندیوں اور سفارتی دباؤ میں اضافہ بھی ہوا۔ ان دھماکوں کے بعد پاکستان نے خود کو کھلے طور پر ایٹمی طاقت کے طور پر منوایا اور داخلی سیاست میں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا۔