عمران خان کے دورِ حکومت میں صحت کے شعبے میں ایک نمایاں اقدام صحت کارڈ (Sehat Sahulat Program) کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنا تھا، جس کا مقصد کم آمدن اور غریب خاندانوں کو مہنگے علاج کے اخراجات سے تحفظ دینا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اہل خاندانوں کو سرکاری و نجی ہسپتالوں میں مخصوص حد تک مفت/سرکاری خرچ پر علاج کی سہولت فراہم کی گئی، تاکہ عام شہری بھی بہتر طبی سہولیات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
صحت کارڈ کے ذریعے داخلہ، آپریشن، ایمرجنسی اور بعض مہنگے علاج کی سہولتیں شامل کی گئیں اور کوشش کی گئی کہ صحت کا بنیادی حق شہریوں کو عملی طور پر ملے۔ اس اقدام کو کئی صوبوں اور اضلاع میں مرحلہ وار وسعت دی گئی، جس سے ہزاروں خاندانوں کو علاج میں سہولت ملی اور صحت کے اخراجات کے بوجھ میں کمی آئی۔
یہ پروگرام پاکستان میں ہیلتھ انشورنس/سوشل پروٹیکشن کے تصور کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش سمجھا جاتا ہے، جس میں ریاست شہریوں کے علاج کے لیے مالی تحفظ فراہم کرتی ہے، اور خاص طور پر کمزور طبقات کو ہسپتال کے اخراجات کے دباؤ سے نکالنے کا ہدف رکھا گیا۔