بھارتی سابق را افسر بی رمن نے اپنی کتاب “The Kaoboys of R&AW: Down Memory Lane” (2007) میں تفصیل سے بتایا ہے کہ پاکستان توڑنے کے لیے بھارت نے مکتی باہنی کیسے بنائی، اسے کہاں تربیت دی اور بنگالی نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کیسے بھری گئی۔ بنگالی خواتین کی عزتیں لوٹ کر پاک فوج پر الزام لگایا جاتا۔ بھارتی ریڈیو اسٹیشنز جیسے آکاشوانی سے “سوادھین بنگلا بیٹھا کندرا” جیسے پروگرام چلائے گئے جو بنگالی نوجوانوں میں پاکستانی فوج کے خلاف غم و غصے کو بھڑکاتے تھے اور آزادی کا جذبہ پیدا کرتے تھے اسی سے پھر فوج کا مورال گرایا گیا بنگالی نوجوان کو گوریلا جنگ کی تربیت دے کر پاکستان فوج کے خلاف کھڑا کیا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔