عالمی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق افغان طالبان رجیم نے تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا، تجزیہ کار فرشتہ عباسی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم نے تنقیدی آوازیں دبانے کیلئے صحافیوں کو سخت سزاؤں کا نشانہ بنایا گیا۔
2024 میں اقوام متحدہ کے افغان مشن نے 336 صحافیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 256 بلاجواز گرفتاریوں کا انکشاف کیا۔
افغان نشریاتی ادارہ کے سربراہ سعد محسینی کے مطابق طالبان رجیم کی کڑی پابندیوں کے باوجود جبر کیخلاف افغان عوام کے مستقبل کیلئے میڈیا کا کردار نہایت اہم ہوگا۔
ماہرین کے مطابق آزاد صحافت اور عالمی میڈیا پر پابندی لگا کر سوشل میڈیا پر جعلی افغان اکاؤنٹس منظم پروپیگنڈے کے فروغ میں سرگرم ہیں۔
UR
No comments yet. Start the discussion.